4 مارچ 2011 - 20:30

یہ ہیں وہ نعرے جو تیونس سے نکل کر مصر اور پھر لیبیا ،بحرین ،اردن اور اب سعودی عربیہ میں جاپہنچا ہے ھیھات منا الذلةہے کیا ؟

ابنا:

ھیھات مناالذلة کا لفظی ترجمہ بنتا ہے ذلت ہم سے دور ہے یہ وہ نعرہ جسے حریت پسندوں کے امام و سردار و قائد و رہبر و لیڈر حضرت امام حسین ع نے آج سے ایک ہزار چارسو کچھ سال قبل ایک صحراءکربلا میں اس وقت لگایا تھا جب اس وقت کے ڈکٹیٹر یزید کی فورسز نے آپ اور آپ کے آزادو حریت پسند وں کا گیراﺅ کیا ہواتھا جبکہ آپ مکہ سے یزید کی حکومت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے ایک قافلہ یا ریلی لیکر نکل پڑے تھے آپ جہاں سے گذرتے وہاں یزید کے خلاف اپنے موقف اور احتجاج کا اعلان کرتے جاتے تھے ۔آپ نے اس وقت فرمایا تھا کہ آگاہ رہو کہ اس نا مشروع ولید نے مجھے ایسی صورت حال میں لا کھڑا کیا ہے کہ میرے پاس دو راستے ہیں یا یہ کہ ذلت اٹھاﺅں یا پھر ایسے راستے کا انتخاب کروں جس کا نتیجہ شہادت اور مرگ ہے اور پھر آپ نے فرمایا ھیھات منا الذلة آج داخلی استبداد اور بیرونی استعمار کے آلہ کاروں سے عرب ممالک کی عوام چھٹکارہ پانے کے لئے یہی نعرہ لگا رہی ہے ایک بار پھر سے سرزمین رسول اللہ ص و سرزمین اہلبیت ع و صحابہ کرام نواسہ رسول کے انہی نعروں سے گونج رہے ہے ھیھات منا الذلة ۔ذلت ہم سے ہے دور ۔۔۔۔۔۔۔۔

/110